پیدائشی زائچہ
جس منٹ اور جس شہر میں آپ نے آنکھ کھولی، اس وقت کے آسمان کی تصویر۔ ہر ذاتی ریڈنگ اسی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔
پیدائشی زائچہ کسے کہتے ہیں
پرانی اردو میں جسے "زائچہ" یا "جنم پتری" کہا جاتا تھا، وہی آج پیدائشی زائچہ یا نیٹل چارٹ کہلاتا ہے: ایک گول خاکہ جس میں درج ہوتا ہے کہ آپ کی جائے پیدائش سے دیکھیں تو سورج، چاند اور سیارے اس لمحے منطقۃ البروج میں کہاں کھڑے تھے۔ اسے بنانے کے لیے تین چیزیں چاہییں: تاریخ، وقت اور مقام۔
زائچے کی چار تہیں
| تہہ | کس سوال کا جواب |
|---|---|
| سیارے | کیا: انسان کی قوتیں اور تقاضے (محبت، ارادہ، سوچ) |
| برج | کیسے: ہر سیارہ کس انداز میں ظاہر ہوتا ہے |
| خانے | کہاں: زندگی کا کون سا میدان |
| زاویے | کس کے ساتھ: سیارے آپس میں کیسے بات کرتے ہیں |
ان کے اوپر چار زاویائی نقاط آتے ہیں: طالع، غارب، وسط السماء اور تحت الارض (IC)۔ یہ وقتِ پیدائش سے بنتے ہیں اور خانوں کو اپنی جگہ پر ٹکاتے ہیں۔
وقت کے بغیر زائچہ ادھورا کیوں ہے
سیارے آہستہ چلتے ہیں، اس لیے تاریخ سے ان کے برج معلوم ہو جاتے ہیں۔ لیکن آسمان ہر روز ایک پورا چکر کاٹتا ہے: طالع لگ بھگ ہر دو گھنٹے میں برج بدل لیتا ہے اور خانوں کے سرے ہر چار منٹ میں ایک درجہ سرک جاتے ہیں۔ وقت معلوم نہ ہو تو زائچہ پھر بھی کام کا ہے، مگر خانوں اور زاویائی نقاط پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ کھویا ہوا وقت وقتِ پیدائش کی تصحیح سے اندازاً نکالا جا سکتا ہے۔
اسے اپنے زائچے میں دیکھیں
Astrool صرف آپ کا شمسی برج نہیں بلکہ پورا پیدائشی زائچہ حساب کرتا ہے، اور اسی کی بنیاد پر آپ کا روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ زائچہ لکھتا ہے۔
عام سوالات
کیا نیٹل چارٹ اور پیدائشی زائچہ ایک ہی چیز ہیں؟
جی ہاں، نیٹل چارٹ، برتھ چارٹ، جنم کنڈلی اور پیدائشی زائچہ ایک ہی تصور کے مختلف نام ہیں۔
وقتِ پیدائش کے بغیر زائچہ کتنا پڑھا جا سکتا ہے؟
کافی حد تک۔ سیاروں کے برج اور زیادہ تر زاویے درست رہتے ہیں؛ طالع، خانے اور چاند کا درست درجہ مشکوک ہو سکتے ہیں۔